23 ستمبر 2012 - 20:30

اسلام میں صرف دو ہی فرقے ہوسکتے ہیں ، محمد (ص) وآل محمد کا دوست یا محمد (ص) وآل محمد کا دشمن ۔ کوئٹہ سمیت پورے ملک میں پاکستانیوں اوربالخصوص ملت جعفریہ کی ٹارگٹ کلنگ ہورہی ہے ۔ حکومت قیام امن کے لئے سنجیدہ اقدامات کرنےسے گریزاں ہے ۔ اور عوام کو دہشت گردوں کے رحم وکرم پر چھوڑدیا گیا ہے۔

ابنا: یکجہتی ملت جعفریہ کوئٹہ کیلئے چیف آف ہزارہ قبائل سردارسعادت علی ہزارہ کی زیرقیادت کوئٹہ یکجہتی کونسل کا عظیم الشان جلسہ علمدارروڈ کوئٹہ میں منعقد ہوا جس میں ہزارہ ملت تشیع کے ہزاروں افراد نے شرکت کی ۔ جلسے سے چیف آف ہزارہ قبائل سردارسعادت علی ہزارہ، رکن شوریٰ عالی مجلس وحدت مسلمین علامہ سید ہاشم موسوی، شیعہ علماء کونسل بلوچستان کے صوبائی صدرعلامہ غلام مہدی نجفی، شیعہ کانفرنس ہزارہ ٹاؤن یونٹ کے صدر سید مسرت حسین بنگش ، ہزارہ قومی جرگہ کے حاجی قیوم چنگیزی، انجمن تاجران بلوچستان کے حاجی طاہر نظری سمیت دیگرمقررین نے تقریریں کیں۔چیف آف ہزارہ قبائل جناب سردار سعادت علی ہزارہ نے کہا: ملک کی اندرونی وبیرونی قوتیں ملت جعفریہ کو تقسیم کرنے کی سازشوں میں مصروف عمل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام میں صرف دو ہی فرقے ہوسکتے ہیں، محمد (ص) وآل محمد (ص) کا دوست یا محمد و آل محمد (ص) کا دشمن۔ کوئٹہ سمیت پورے ملک میں پاکستانیوں اوربالخصوص ملت جعفریہ کی ٹارگٹ کلنگ ہورہی ہے۔ حکومت قیام امن کے لئے سنجیدہ اقدامات کرنےسے گریزاں ہے اور عوام کو دہشت گردوں کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا گیا ہے ۔ انھوں نے کہا: ہر طبقہ فکر دہشت گردی کا شکار ہے؛ ہمیں خانہ جنگی کی طرف واضح طور پر دھکیلا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کی سرپرستی کرنے والے حکمرانوں اور ریاستی اداروں کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں؛ ملک چلانے کیلئے مربوط لائحہ عمل اور قیام امن کی بحالی سمیت عوام کو جان ومال کا تحفظ کرنا، حکمرانوں کی اولین ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج ایک مرتبہ پھر میں اس جلسہ عام کے پلیٹ فارم سے تمام قوم پرست جمہوریت پسند اقوام اور سیاسی جماعتوں کے نمائندوں اور مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں کو دعوت عام دیتا ہوں کہ آئیں مل بیٹھ کر قبائلی رسم ورواج اور جمہوری اصولوں کے اندر رہتے ہوئے قیام امن کیلئے اپنا کردار ادا کریں ۔جلسے سے بلوچستان شیعہ کانفرنس کے صدرسید محمد اشرف زیدی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے اندر کھیلے جانے والے بین الاقوامی گریٹ گیم میں قربانی کا بکرا بننے والے اقوام کو سوچنا چاہئیے کہ نسل کشی اور آئے روز بم دھماکے اور دہشت گردی کے دیگر واقعات کے مستقبل میں کون کون سے منفی اثرات مرتب ہونگے جس طرح کہ پیغمبراسلام حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) پربنائی جانے والی گستاخانہ فلم پرپوری مسلم اُمہ متحد ہوئی، اُسی طرح پاکستان کو بچانے اور دہشتگردی کا مقابلہ کرنے کیلئے بھی ہمیں متحد ہوکرکام کرنا ہوگا۔امام جمعہ کوئٹہ علامہ سید ہاشم موسوی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ الحمد اللہ ہماری قوم حسینی ہے اور ہمارا سردار بھی حسینی ہے۔ ہماری قوم کا حوصلہ و ہمت بلند ہے۔ شکست ہمارے دشمنوں کیلئے ہے۔ حسینی قوم ہمیشہ کی طرح ذلت سے دور ہے اور دور رہے گی ۔ علامہ سید ہاشم موسوی کا کہنا تھا کہ امریکہ و اسرائیل سمیت دیگرصہیونی طاقتیں مسلم اُمہ کیخلاف سازشوں میں مصروف عمل ہیں۔ یونٹ انچارج ایم کیوایم ابراہیم ہزارہ کا کہنا تھا کہ صوبے میں برادر اقوام بلوچ، پشتون، ہزارہ، سرائیکی ، پنجابی اور آباد کار اپنی قومی اور ملکی سلامتی کیلئے اپنی سیاسی جمہوری اور اخلاقی ذمہ داریاں انجام دیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچوں کی مسخ شدہ لاشیں ملنا افسوسناک عمل ہے جبکہ اسی طرح ایک منظم سازش کے تحت صوبے میں شیعہ، سنی فسادات پھیلانے کیلئے کبھی ملت تشیع کے افراد کو نشانہ بنا یا جاتا ہے تو کبھی مدرسہ ، مساجد اور سنی علماء کرام کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ جس کا مقصد ان تمام واقعات کو مذہبی رنگ دینا ہوتا ہے تا کہ مذہب اور عقیدے کو جواز بنا کر فرقہ وارانہ فسادات برپا کئے جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں بسنے والی اقوام صوبے کے امن کو کسی صورت سبوتاژ نہیں ہونے دینگے اور ہر قسم کی سازشوں اور ہتھکنڈوں کو ناکام بنانے کیلئے مشترکہ کردار ادا کرینگے۔ انجمن تاجران کے رکن طاہرنظری، نائب صدربلوچستان شیعہ کانفرنس سید مسرت حسین سمیت دیگر نے بھی خطاب کیا اور آخرمیں جلسے کے اکابرین نے ایک قرارداد بھی پیش کی۔ مشترکہ قرارداد میں شرکاء کا کہنا تھا کہ

1۔ گستاخانہ فلم ایک ارب مسلمانوں کے عقیدے کی توہین اوردل آزاری کے مترادف ہے؛ لہذا اقوام متحدہ قانون سازی کرکے ایسے گھناؤنے کا سد باب کرے اور شیطانی فعل کے مرتکب ملعون پادری کے سزائے موت دی جائے۔2۔ موجودہ حکومت اورانتظامیہ دہشتگردی کی سرپرستی کرنے سے باز رہے اوراخلاقی جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی ناکامی تسلیم کرکے اقتدارسے مستعفی ہوجائے۔3۔ عقیدے کے آڑ میں شعیوں کا قتل عام فوری طورپربند کرکے کالعدم تنظیموں کے نقل وحرکت پر پابندی عائد کرکے کرائے کے قاتلوں کو گرفتار کرکے انصاف کے کٹہرے میں ‌لایا جائے‌۔4۔ ہم دس پشتون مزدوروں کے بہیمانہ قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے ایسے واقعات کوقبائلی خلفشار کا پیش خیمہ قرار دیتے ہیں اورمطالبہ کرتے ہیں کہ ایسے واقعات کو روکنے کیلئے اقدامات کیے جائیں اورواقعے میں ملوث دہشتگردوں کو گرفتار کیا جائے ۔5۔ ہم سمجھتے ہیں کہ بلوچستان میں‌ بیرونی مداخلت کو روکنے میں تمام خفیہ ادارے بدترین ناکامی سے دوچارہوئے ہیں جسکی وجہ سے بلوچستان میں‌ آگ وخون کی ہولی کھیلی جارہی ہے۔6۔ہم بلوچستان میں لسانی بنیادوں پر کئے جانے والے اقدامات کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں‌۔7۔ ہم بلوچوں کو حکومتی سطح پر ہراساں کرنے اور مسخ شدہ لاشوں کی برآمدگی کو فوری طورپر روکنے اورمعاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی تجویزپیش کرتے ہیں‌۔8۔ہم اپنے صحافی بھائیوں سے مکمل یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کسی بھی ناخوشگوارصورتحال میں بعض عناصرکی جانب سے میڈیا کے دوستوں کے ساتھ بدتمیزی کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اورصحافی دوستوں سے اپیل کرتے ہیں کہ اپنا بائیکاٹ ختم کرکے ہزارہ قوم کے ساتھ مشکل کی اس گھڑی میں تعاون کرکے اپنی صاحافتی ذمہ داری پوری کریں۔........

/110